ڈیڈ اور الایو؟

٣۔ آپ اپنے شہر کی جیل کی لائبریری کے لیے کتابیں عطیہ کر سکتے ہیں اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کے گھر کی ردی کی مدد سے ….. جیل میں بیٹھا ہر شخص نہ تو مجرم ہوتا ہے اور نہ ہی قابل نفرت….. بہت سے وہاں صرف برے نظام کی وجہ سے پہنچتے ہیں…. جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم بھی حاصل کر رہی ہوتی ہے۔ اور ان کے پاس نصابی کتابوں کے علاوہ کوئی resource material نہیں ہوتا۔ کیا پتہ ہماری بھیجی ہوئی کتابوں اور میگزینز میں لکھا کوئی لفظ وہاں بیٹھے کسی شخص اور اس کے خاندان کی زندگی سنوار دے۔
٤۔ آپ ایک گروپ بنا کر کسی سرکاری سکول کی لا ئبریری ایک سال کے لیے adopt کر سکتے ہیں ۔ ایک مہینے میں دس ممبرز کے گروپ کا صرف ایک ممبر بھی وہاں کا ایک چکر لگا آئے تو سال میں ہر ممبر کو ایک دو سے زیادہ چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ دس ممبرز کا گروپ اپنے خاندان اور حلقہ احباب کے وسائل سے نہ صرف اس لائبریری کو فنکشنل اور مفید بنا سکتے ہیں بلکہ جب بھی اس ا سکول میں جائیں تو وہ مختلف کلاسز میں جا کر مطالعہ کی اہمیت اور لائبریری کے استعمال کی ضرورت پر بچوں کے ساتھ بات بھی کر سکتے ہیں۔
٥۔ آپ کسی اولڈ پیپلز ہوم میں چند دنوں کے لیے بوڑھے لوگوں کے مدد گار کے طور پر کام کر سکتے ہیں….. یہ تجربہ ہمیں کچھ اور سکھائے نہ سکھائے اپنے والدین کی عزت اور اپنے بڑھاپے کے لیے ہمیں تیار ضرور کر دے گا۔
٦۔ آپ اپنی یونیورسٹی اور کالج میں موجود کام کرنے والے بچوں کے لیے ایک پارٹ ٹائم ا سکول کا انتظام کر سکتے ہیں ،اور کالج اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی مدد سے اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ کم از کم چراغ تلے اندھیرا نہ ہو یعنی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ننھے بچے خود تعلیم سے محروم نہ ہوں۔ یہ سب سے آسان کام ہو گا وسائل کے حساب سے کیونکہ آپ اسی یونیورسٹی اور کالج کے کمرے اور سہولیات کو وہیں پڑھنے والے اسٹوڈنٹس کی مدد سے استعمال کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر سکتے ہیں۔
٧۔ آپ میں سے وہ لوگ جن کے ماں باپ یا خاندان کے بڑوں کا تعلق دیہاتی علاقہ سے ہے لیکن وہ خود کبھی وہاں نہیں گئے۔ وہ ان چھٹیوں میں اپنے دیہات کا دورہ کر سکتے ہیں ۔ اگر وہ علاقے بہت پسماندہ ہیں تو آپ وہاں کی مسجد،ا سکول اور ڈسپنسری کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ وہاں اسی طرح چھوٹے چھوٹے لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں تو خواتین اور بچوں کو صحت کے حوالے سے بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔
٨۔ آپ ان چھٹیوں میں اپنے گھر میں کام کرنے والے نوکر کے بچوں کو ان کی تعلیم میں مدد کر سکتے ہیں ….ایک additional support کے طور پر ….. یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر میں کام کرنے والے ہر نوکر کے چھوٹے بچوں کوا سکول بھجوائیں…. ہر مہینے چند سو روپے سے ہم اس نوکر کی اگلی نسل کو ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں….. اگر وہ بچے نو عمر ہیں اورا سکول چھوڑ چکے ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو کہیں نہ کہیں سے کوئی ہنر یا skill سکھانے کی کوشش کریں ،تاکہ اپنا رزق کام کر کے کمائیں، سڑکوں پر موبائل چھین کر نہیں۔ یاد رکھیں اگر ہمارے نوکروں کے بچے صرف پیسے کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے تو ہم مجرم ہیں اور قیامت کے دن اﷲ تعالی ہم سے اس کا حساب لے گا۔

ان کمام کاموں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ان ساری چیزوں سے پاکستان نہیں بدلے گا لیکن ہم خود کسی نہ کسی حد تک ضرور بدلیں گے۔ آج دو لوگ ہوں گے پھر دو سو ہوں گے اور پھر دو ہزار…… دو لاکھ….دو کروڑ….پھر سارا پاکستان….آپ چاہیں تو اسے خیالی پلاؤ کہہ لیں… دن کا خواب… یا دیوانے کی بڑ….میں اسے possibility کہتی ہوں…..امکان……امید ۔۔۔۔وہ جس پر ہمارا دین کھڑا ہے۔
تو آیئے اس سال اپنے رونا رونے کی بجائے کسی اور کے آنسو پونچھیں۔