ڈیڈ اور الایو؟

ہم اپنی زندگی کو کس طرح جینا اور گزارنا چاہتے ہیں، وہ مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم زندگی صرف اور صرف اپنے لیے جینا چاہتے ہیں یا ہم اپنی زندگی دوسروں کے ساتھ مل کر جینا چاہتے ہیں….اختیار اور انتخاب دونوں ہمارے پاس ہے۔ ہم وہ بوڑھا آدمی بننا چاہتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو پھل کھلانے کے لیے پیڑ لگاتا ہے یا اپنے سامنے صرف وہ پھل چاہتے ہیں جس سے ہم لطف اندوز ہو سکیں…کوئی زبردستی نہیں…..Dead Or Alive… ہم جیسے بھی چاہیں جی سکتے ہیں لیکن زندہ ہوتے ہوئے مردہ بن کر رہنا ہمیں انسان کے درجے سے جانور کی حیثیت میں لے جاتا ہے۔ اپنے لیے جینا، اپنا رزق، اپنا لباس ، اپنی ا سائش ، اپنا آرام ، اپنی ترقی…..ہم مادیت کے اس دائرے میں گھومتے گھومتے ایک وقت آنے پر صرف بظاہر انسان رہ جاتے ہیں….انسان ہوتے نہیں اور پھر لاکھ ہاتھ پاؤں مارنے پر بھی ہم اپنے جسم کے اندر موجود دل میں انسانیت ، رحم ، ہمدردی ، بھائی چارہ ، خلوص ، جیسے جذبات اور اوصاف کو ابھارنے میںنا کام رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح ECG ایک مردہ شخص کی دل کی دھڑکن ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہے….تو میں نے کہا نا انتخاب ہمارے پاس ہے، ہم اپنی زندگی کے پچاس ساٹھ سال کے ایک ایک دن کے ایک ایک گھنٹے کو صرف اور صرف اپنے اور اپنی فیملی کے لیے ہلکان رہ کربھی گزار سکتے ہیں….یا ان پچاس ساٹھ سالوں کے کچھ مہینے اس دنیا سے جانے سے پہلے چند لوگوں کی زندگی میں آرام اور امید نام کے دو لفظوں کا اضافہ کر کے جائیں۔
پاکستان جیسے مسائل کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ملک میں چندے جمع کرنے ، فیس بک پر ملامتیں اور مذمتیں کرنے ، TV ٹاک شوز دیکھ دیکھ کر اپنا خون جلانے اور یہ سوچ سوچ کر خود ترسی اور ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ ”میں اچھا ہوں اور میرے ارد گرد سب کچھ خراب اور قابل اصلاح ہے۔ ”…… اگر مجھے اپنا سسٹم ناکام اور کرپٹ نظر آرہا ہے اور سب کچھ خراب لگ رہا ہے اپنی ذات کے علاوہ ….. تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم ناکام نہیں ہے میں (فرد) ناکام ہو رہا ہوں،کیونکہ میں بے حس ہوں …..میں بھی اچھا نہیں ہوں اور اس ملک کی تباہی اور بربادی کا تھوڑاسا حصہ میرا بھی ہے۔
ہم جانتے ہیں بہت تھوڑے سے لوگ اس پروجیکٹ میںہمارے ساتھی بنیں گے…..تبدیلی کا آغاز کرنے والے ہمیشہ تھوڑے سے لوگ ہی ہوتے ہیں اور وہی leaders ہوتے ہیں باقی followers ہوتے ہیں….. اور ہمیشہ followers دیر سے ملتے ہیں۔
ہم گرمیوں کے ان دو تین مہینوں میں کیا کیا کر سکتے ہیں ؟ ….. بہت کچھ۔
ہم اگر کئی ہفتوں کا کوئی پروجیکٹ شروع نہیں کر سکتے تو چند دن یا چند گھنٹے کسی نہ کسی فلاحی کام پر ضرور لگا سکتے ہیں۔
١۔ ہم اپنے محلے یا علاقے کی مسجد میں امام صاحب کے تعاون سے نوجوان لوگوں کے لیے ہفتہ وار یا روزانہ کیریئر کونسلنگ ، حفظان صحت ، ڈرگز کے نقصانات ، میڈیا کے مضر اثرات اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی اہمیت جیسے معاملات پر لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہمیں اپنی public speaking اور presentation skills کو بہتر کرنے کا موقع ملے گا جو آج کل ہر جاب اور انٹرن شپ کا ایک بنیادی جزو ہے، بلکہ ہم مساجد کے ماحول کو بہتر کر کے اپنے محلے اور علاقے کے نوجوانوں کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر مسجد میں کوئی مدرسہ کام کر رہا ہے توہم ان کے طلبا کے لیے بھی ان معلوماتی لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں ۔ ہم ان طلبا کو کمپیوٹر کے کچھ تعارفی کورسز کروا سکتے ہیں اورد ینی تعلیم کے حوالے سے ان کے ساتھ اہم اور مفید انٹریکشن کر سکتے ہیں۔
٢۔ ہفتہ میں ایک بار ہم کسی سرکاری ہاسپٹل میں وہاں کی انتظامیہ سے اجازت لینے کے بعد OPD میں رضاکارانہ اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔ دیہات اور دوردراز کے علاقوں سے آنے والے غریب اور کم معلومات رکھنے والے مریضوں کو متعلقہ ڈاکٹر اور چیک اپ کے معاملات سے مطلع کر سکتے ہیں۔ میں اپنی زندگی میں ایک آدھ بار یہ کام کر چکی ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ ایک دن ہاسپٹل میں ایک رضاکار کے طور پر دھکے کھانے والے مریضوں کی مدد کے بعد آپ اﷲ تعالی کی بہت سی نعمتوں کی قدر کرنے لگیں گے۔