ڈیڈ اور الایو؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں ایک کسان ہوتا تھا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں ۔ بڑی بیٹی سات سال کی اور چھوٹی بیٹی چھ سال کی۔ چھوٹی بیٹی بے حد ذہین تھی اور ہر وقت کسان سے سوال کرتی رہتی تھی۔ کسان ان کا جواب دینے کی حتی المقدور کوشش کرتا تھا کم علمی کی وجہ سے بہت جلد اس کو ادراک ہوگیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہا۔
گاؤں کے پاس پہاڑ پر ایک بوڑھا مگردانا آدمی رہتا تھا ۔ کسان نے سوچا وہ اپنی بیٹیوں کو اس کے پاس بھیج دیاکرے گاتاکہ وہ اپنے ہر سوال کا جواب حاصل کر سکیں۔
اس نے اپنی دونوں بچیوں کو دانا آدمی کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ دونوں بچیاں بوڑھے آدمی سے بھی ہر وقت اسی طرح نت نئے سوال کرنے لگیں، جس طرح وہ اپنے باپ سے کیا کرتی تھیں اور پھر اس کی پریشانی یا لاجواب ہونے سے لطف اندوزہوا کرتی تھیں۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں انہیںاندازہ ہو گیا کہ وہ اس دانا آدمی کو زچ نہیں کر سکتیں، کیونکہ اس کے پاس ان کے ہر سوال کا جواب ہوتا تھا ۔ دانا آدمی کے علم اور عقل نے ان دونوں کو لاجواب کرنا شروع کر دیا۔ کئی ہفتے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ دانا آدمی بھی بھانپ گیا کہ وہ دونوں بچیاں اب ایک ایسے سوال کی تلاش میں ہیں ،جس کا جواب اس کے پاس بھی نہ ہو۔ دانائی اور بچپن ایک دوسرے کو جیسے مات دینے کی جدوجہد میں لگے تھے۔
ایک دن پہاڑ کے دامن میں کھیلتے ہوئے چھوٹی بہن نے ایک تتلی پکڑی اور جیسے اسے بالا آخروہ سوال مل گیا جس کا جواب دانائی کو یکسر چت کرنے والا تھا۔ اس نے بڑی بہن سے کہا ”میری بند مٹھی میں ایک تتلی ہے میں دانا سے پوچھوں گی کہ میرے ہاتھوں میں کیا ہے…..وہ یقینا یہ بوجھ جائے گا کہ میرے ہاتھوں میں تتلی ہے۔ پھر میں اس سے پوچھوں گی ….زندہ یا مردہ …؟ …..اگر وہ کہے گا زندہ تو ،میں دونوں ہاتھوں کو اسی طرح مٹھی کی شکل میں رگڑ کر تتلی کو مسل دوں گی اور دانا سے کہوں گی کہ تتلی تو مردہ ہے اور اس کا جواب غلط ہے… اگر اس نے کہا کہ تتلی مردہ ہے تو میں اپنی مٹھی کھول کر تتلی اڑا دوں گی اور اس سے کہوں گی کہ تتلی تو زندہ ہے…اس کا جواب غلط ہے۔”
دونوں بہنیں بے حد اعتمادکے ساتھ اور خوش خوش دانا آدمی کے پاس گئیں ۔ چھوٹی نے دونوں ہاتھوں کی بھینچی ہوئی مٹھی دکھاتے ہوئے اس سے پوچھا ” میری مٹھی میں کیا ہے؟ ” دانا آدمی نے چند لمحے مٹھی کو غور سے دیکھا اور کہا ”تتلی” چھوٹی بہن نے مسکراتے ہوئے بڑی بہن کو دیکھا یوں جیسے اسے جتایا ہو ۔ پھر اس نے دانا آدمی کو دیکھتے ہوئے اگلا سوال کیا”زندہ یا مردہ؟” دانا آدمی نے اس بار اس کی مٹھی کو نہیں اس کے چہرے کو غور سے پڑھا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ بچپنا اپنے سوال کاصحیح جواب لینے اس کے پاس نہیں آیا…. بچپنااسے غلط ثابت کرنے کی خواہش کے ساتھ اس کے پاس آیا ہے۔ وہ جان گیا کہ وہ اس کے کس جواب پر کیا کرنے والی ہے ۔
”زندہ یا مردہ؟” چھوٹی لڑکی کو دانا آدمی کو اس طرح گہری سوچ میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس نے سوال دہرایا…. ‘Dead Or Alive’’ دانا آدمی مسکرایا اور پھر اس نے کہا ‘‘It’s in your hand” (اس کی زندگی یا موت تمہارے ہاتھ میں ہے)
چھوٹی لڑکی نے جیسے ہار مانتے ہوئے دانا آدمی کو مسکرا کر دیکھا۔ وہ دانائی کو اس بار بھی لاجواب نہیں کر سکی تھی۔
میں ہمیشہ ٹیچرز ٹریننگ کے لیے اپنی ورکشاپ کے پہلے سیشن کا آغاز اس چھوٹی سی کہانی سے کرتی ہوں ۔ وہاں میرا مقصد انہیں اس ورکشاپ کا بہترین استعمال کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوتا ہے۔ یہاں اس کہانی کو آپ سے شیئر کرنے کا مقصد اس پروجیکٹ کے لیے آپ کو تیار کرنا ہے جو ”گرمیوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی نیکیاں” کے حوالے سے ہم بہت ہی چھوٹے پیمانے پر اس سال شروع کر رہے ہیں۔