ہم نے مسجد کے مینار کاکرنا کیا ہے؟

مولویوں اور مساجد پر تنقیدی مقالے بھی لکھ سکتے ہیں لیکن ہم ا’ن مساجد کو اپنی زندگی کا ا’س طرح حصّہ بنانے پر تیار نہیں جس طرح فیس بک ، یوٹیوب، ٹی وی ،موبائل اور انٹرنیٹ ہما ری زندگی کا حصّہ ہیں۔

        اور اس کے بعد ہم مسجد اور مولوی پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ مولوی کی کم علمی اور کم فہمی کا مذاق بھی ا’ڑاتے ہیں۔ ا’س کی تنگ نظری اور جہالت بھی ہمیں ناگوار گزرتی ہے……لیکن سچ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ جو مسجد کا دروازہ پانچ بار وقت پر کھل جاتا ہے یہ مولوی اور ا’س کی اولاد کی ہی وجہ سے ہے۔ وہ وہاں نہ رہ رہے ہوتے تو ہم پڑھے لکھے ۔ ذہین۔ قابل لوگ مسجدوں پر تالے ڈال دیتے۔ ہماری زندگیاں distinctions ،  سکالرشپس،  پروفیشنل ایکسیلنس اور achievements  کے ستونوں پر کھڑی ہیں۔ مسجدوں کے میناروں کا ہم نے کیا کرنا ہے۔