مہر اور محرم

”محرم” سے ”مہر” اور وہ بھی بے غرض……عجیب ہاتھ پائوں مارتا ہے انسان اس درجہ تک پہنچنے ک لیے ، پر غرض آکٹوپس کی طرح چمٹی رہتی ہے انسان کو، وہ اب کیسے چھوڑدے انسان کو جب ساری زندگی ا’س نے محرم سے مہر کو اُسی کا پانی دے دے کر سینچا ہے۔ ا’سی کے سائے میں پروان چڑھایا ہے، ا’سی کے جھولے پر جھولایا ہے، تو پھر اس آخری سٹیج میں آ کر غرض مہر کو صرف ”مہر” کیسے رہ جانے دے؟ سارا سارا دن تسبیحاں پھیرتے ، تہجدیں پڑھتے ،  نفلی روزے رکھتے بھی انسان سو سو چیزیں مانگتا ہے ہر روز اﷲ سے، اب اپنے لیے ترقیاں، پیسہ، بنگلے، اولادیں ، کامیابیاں نہیں چاہیے ہوتیں اب یہ سب اپنی اولاد کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ اپنے لیے تو انسان صرف بخشش، فرمانبردار  اولاد ، صحت مندی اور اچھا بڑھاپہ مانگتا ہے۔

        شیکسپیئر کی   Seven Stages Of a Man’s  Life  کی طرح انسان کی ساری زندگی محرم کی شناخت اور ا’س سے شناسائی حاصل کرنے کی انہیں چار سٹیجز میں سمٹی ہوتی ہے۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا۔ تجسّس، شکائت، ایمان اور رضا کی سیڑھیاں چڑھتے ا’ترتے ، شکوے اور شکر کے بیچ جھولتے ہوئے، کبھی لگتا ہے اﷲ سے بڑھ کر کوئی نہیں کبھی لگتا ہے اﷲ تو جیسے ہے ہی نہیں۔ کبھی لگتا ہے اﷲ ماں کی طرح ہم پر نثار ہے، کبھی لگتا ہے اﷲ ہم سے صرف بے زار ہے ، کبھی ا’س کی خوشنودی کی ایسی چاہ کہ انسان رات بھی نفلوں میں گزار دے اور کبھی فرض نماز پڑھے بھی مہینوں گزر جائیں ۔ کبھی سب کچھ صرف اﷲ کے لیے اور کبھی اﷲ ہی کچھ بھی نہیں۔

        لیکن پاس ہو یا دور، ناراض ہو یا راضی ، محرم زندگی کے ایک ایک لمحے میں ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ سائے کی طرح، سانس کی طرح، خون کی گردش کی طرح، دل کی دھڑکن کی طرح شعور سے لا شعور پر دسترس رکھتے ہوئے وہ ہمیں اپنے ”رب” اپنے ”محرم” کا ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔

       محرم ہماری محبت کی نوعیت جانتا ہے۔ مہر میں چھپی غرض جانتا ہے۔ غرض کے بعد کا عمل جانتا ہے۔ پھر بھی محبت قبول کرتاہے۔غرض پوری کرتا ہے۔ اعمال کا اجر دیتا ہے۔گناہوں پر بخش دیتا ہے۔ وہ وہ کرتا ہے جو کرنے پر قادر ہے ۔ہم وہ کرتے ہیں جو کر سکتے ہیں۔

         محرم ہم سے غیر مشروط محبت کرتا ہے…..

وہ ناراض بھی ہوتاہے، سزا بھی دیتا ہے لیکن ہم سے ا’س کا پہلا تعلق محبت کا ہے غرض کا نہیں۔ وہ اپنی تخلیق کو غرض کی تکمیل کے لیے نہیں چاہتا۔ وہ ہمارے اعمال پر ہم سے اپنی محبت بڑھاتا گھٹاتا رہتا ہے۔ پر ان سارے اعمال کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ وہ عبادت اور اطاعت کا تقاضہ کرتا ہے پر صرف اس پر جنّت نہیں بخش دیتا ہے۔ جنّت اور ا’س تک آنے والے سات رستوں پر ا’س نے انسانوں کو ہی بٹھایا ہوا ہے۔ مستحقین ، محتاج ، بے کس، لاچار، معذور،ضرورت مند، یتیم ، بیوہ ، بے سہارا ….. یہی سیڑھیاں اور دروازے بنائے ہیں ا’س نے اپنی محبت اور جنت تک…… بالکل   Happy prince اور   Swallow کی کہانی کی طرح جس میں   Happy prince کو خوش کرنے کے لیے   Swallow کو شہر بھر کے ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے اُڑانیں بھرنی پڑی تھیں۔ ایسی ہی ا’ڑانیں اﷲ کی خوشنودی کے لیے ہم پر بھی واجب ہیں۔ ایسی ہی ا’ڑانیں ہمارے وجود کو غرض کے آکٹوپس کی گرفت سے نکال دیں گی مکمل طور پر نہ سہی پھر بھی بڑی حد تک، پھر ”محرم” سے ”مہر” کی ایک پانچویں سٹیج دریافت کر پاتا ہے انسان، وہ سٹیج جہاں پر اﷲ صرف دوست ہوتا ہے اور محرم…ایسا محرم جو دُنیا کو ہی سکون اور سرشاری کی جنت بنا دیتا ہے انسان کے لیے۔ پھر محرم تک ساری ا’ڑانیں مہر کے پروں سے شروع ہو کر اُسی پر ختم ہوتی ہیں۔