مہر اور محرم

دُنیا کا ہر مذہب انسان کی اس دُنیا میں آمد کے بعد اپنے اپنے طریقے سے اس کے خالق کے ساتھ ا’س کے تعلق کی بنیاد ضرور ڈالتا ہے۔مسلمانوں میں یہ طریقہ بچے کے کان میں آذان ہوتا ہے۔

       پہلی دفعہ اﷲ کے نام سے شناسائی ہمیں اذان کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ مفہوم سمجھے بغیر ہم اُس ایک نام سے واقف ہوتے ہیں۔ جو زندگی کے آخری لمحات تک ہمارے وجود سے جڑا رہتا ہے۔

       اپنے نام کے علاوہ اﷲ کا نام وہ واحد نام ہے جو ہم ہر روز بار بارسنتے ہیں۔ کبھی پانچ وقت کی اذان میں، کبھی لوگوں کی گفتگو میں، کبھی الیکٹرونک میڈیا پر، اور کبھی تنہائی میں بیٹھ کر کی جانے والی اپنی خود کلامیوں میں۔

”محرم” ہماری زندگی کا محور ہو جاتا ہے اور ا’س سے”مہر” کسی نہ کسی رنگ میں ہماری زندگی میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ محرم سے تعلق حیرانی اور تجسّس سے شروع ہوتا ہے۔ بچپن کا وہ تجسّس جو صرف چند بنیادی سوالوں کا جواب چاہتا ہے۔ اﷲ کون ہے؟ اﷲ کہاں رہتا ہے؟ اﷲ دیکھنے میں کیسا ہے؟ اﷲ نظر کیوں نہیں آتا؟ اﷲ د’نیا کا ہر کام کیسے کر لیتا ہے؟ہمارا سارا بچپن اﷲ کے خدوخال اور حدود اربع کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ ا’س وقت اﷲ اور ہمارے رشتے میں ابھی غرض کا رنگ نہیں ہوتا۔ کچھ مانگنا بھی اتفاقی ہوتا ہے اور مل جانا بھی اتفاقی لگتا ہے۔ نہ ملنے پر یہ خیال بھی کسی بچے کو نہیں آتا کہ اﷲ نے ا’س کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔دعا بھی ماں باپ کی سکھائی ہوئی ایک ritual  سے بڑھ کر کچھ نہیں لگتی ہمیں۔

          پھر زندگی ہمیں کچھ سال آگے لے جاتی ہے۔ اب ”محرم” کے بارے میں ہمارا تجسّس کچھ دوسری نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ گناہ اور ثواب کے دو لفظ ہماری ڈکشنری کے پہلے صفحے پر ہر وقت سرخ اور سبز رنگ میں چمکتے رہتے ہیں۔ اب ہمیں یہ جاننے کا تجسّس نہیں ہوتا کہ اﷲ کون ہے اور کہاں رہتا ہے بلکہ ہمیں Intrigue  کرنے والا سوال یہ ہے کہ اﷲ کیا کر سکتا ہے؟  کیا وہ واقعی ہمیں سزا دے سکتا ہے؟ جنت اور جہنم کی جزا اور سزا نہیں بلکہ د’نیا میں لوگوں کے ذریعے ۔ کیا وہ اچھے کاموں کا اجر اسی د’نیا میں دینے کی قدرت رکھتا ہے؟

          یہی وہ زمانہ بھی ہوتا ہے جب ہم اﷲ سے محبت اور غرض دونوں کے رشتے میں بندھنے لگتے ہیں۔ د’عا ہماری زندگی کا حصہ بننے لگتی ہے۔ اﷲ سے شکووں اور شکایتوں کا آ غاز بھی ہو جاتا ہے۔ ”محرم” سے ”مہر” کا اظہار اور اعتراف بھی ہونے لگتا ہے۔ Love at first sight والی طاقتور ، جذباتی محبت جو اپنے سارے passion کے باوجود unconditionalنہیں ہوتی،    spiritual   نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی ہوتی ہے اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ ایگزیمز میں اچھے گریڈز ، بائیک یا گاڑی کا حصول، latest سیل فون کا خواہش، دوستوں کی محبت اور توجّہ کا مرکز ہونا۔ اس عمر میں ”محرم” سے ”مہر” گھٹانے اور بڑھانے والی بس یہی چیزیں ہوتی ہیں۔

       پھر زندگی ہمیں اس سٹیج پر لے آتی ہے جہاں ہمیں تقدیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی کی حقیقتوں کی سفّاکی پہلی بار ہم پر آشکار ہوتی ہے۔ اﷲ سے غرض اور عرض دونوں بہت بڑھ جاتی ہیں۔         یہی وہ دورہوتا ہے جب ہم محرم سے خوف رکھنابھی شروع ہوتے ہیں۔ اﷲ زیادہ  یاد آنا اور یاد رہنے لگتا ہے کیونکہ پتہ چل جاتا ہے اُس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا اور کچھ نہیں ہونا۔ اﷲکو ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان ”اﷲ والے” ڈھونڈنے لگتا ہے۔ جو”محرم” سے ”مہر” کا رشتہ پکّا اورسچّا کر دیں۔ کبھی انسان مادی ضروریا ت کی تکمیل کی خواہش میں محرم تک رسائی چاہتا ہے کبھی سکون کے سرے ڈھونڈتے ہوئے ا’س تک جا پہنچنا چا ہتا ہے۔کبھی د’نیا سے مار کھا کر ا’س کی پناہ چاہتا ہے۔ اور وہ” محرم” زندگی کی اس سٹیج پر بہت یاد آتا ہے۔

         پھر زندگی کی وہ آخری سٹیج آ کر کھڑی ہو جاتی ہے جب محرم سے سامنے کا وقت قریب آنے لگتا ہے۔ بچپن کے سوالوں کی جواب ملنے کی خواہش پوری ہونے والی ہوتی ہے۔