لو لیٹرز

میرے پیارے امریکہ بھائی جان!

            آپ کی خیریت نیک مقصود ہے۔

            آپ کا خط پڑھ کر دل سے جیسے منوں بوجھ اُترا۔ آپ پر جو پیار آیا آپ کا بھیجا ہوا سامان دیکھ کر وہ الگ اور جو احترام محسوس کیا آپ کی ذات کے لیے اُس کا تو خیر شمار ہی کیا۔

            اس بار خط باتھ رول ماتھے پر لپیٹ کر اور دستانے پہن کر لکھ رہا ہوں اور کاغذ پر آپ کا بھیجا ہوا Brute کا کلون بھی چھڑک لیا ہے میں نے۔ تو اس بار کاغذ پر جو داغ دھبے نظر آ رہے ہیں وہ کلون کے ہیں۔ میرے ہاتھوں کے میل چکنائی اور پسینے کے نہیں، مجھے اپنی اولاد سے زیادہ آپ کے ٹومی کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رہتا ہے۔ اُمید ہے اس بار میرا خط دیکھ کر اُس کو کوئی دورہ نہیں پڑے گا۔ اس بار تو میں نے آپ کے بھیجے ہوئے پین سے آپ ہی کی بھیجی ہوئی سٹیشنری کو استعمال کرتے ہوئے خط لکھا ہے اور ٹکٹوں کو بھی تھوک کی بجائے آپ کے بھیجے ہوئے منرل واٹر سے چپکایا ہے۔ اُمید ہے آپ کے عزیز اور میرے عزیز ترین ٹومی کو اس بار کچھ نہیں ہو گا۔

            آپ کے خط کے ساتھ آپ کا چیک بھی ملا لیکن وہ بائونس ہو گیا ہے بینک والوں نے 800 رُوپے کا جرمانہ کیا ہے مجھے، برائے مہربانی اگلے چیک کی رقم میں یہ 800 روپے بھی شامل کر کے دوبارہ چیک بھیجیں۔

            میری آنکھوں میں آپ کا خط پڑھتے ہوئے مسلسل آنسو تھے اور دل سے ایسی ایسی دُعائیں نکل رہی تھیں آپ کے لیے کہ آپ کو لکھ بھی نہیں سکتا۔ اللہ نے آپ کو فرشتہ بنا کر بھیجا ہے بھائی جان، اپنے چھوٹے بھائی کے لیے ایسی محبت اور اُس کا ایسا خیال، آپ واقعی عظیم ہیں۔

            میں نے امیر کو آپ کا سامان اور غریب کو آپ کا پیغام دے دیا تھا۔ اُس نے جواب میں آپ کی شان میں پھر گستاخی کی، ویسے می نے محلے کے مولوی صاحب سے بات کی ہے غریب کے لیے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اُن کے مدرسے میں ڈال دوں تو اللہ کے فضل سے وہ مومن بن کر وہاں سے نکلے گا۔ ایک بااخلاق اور باکردار مومن کے کردار کی تو مجھے خیر کوئی اتنی پرواہ نہیں ہے لیکن اخلاق کی چونکہ آپ نے شکایت کی ہے اس لیے وہ تو ٹھیک کرنا ہی پڑے گا مجھے، کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ غریب کو آپ کے پاس بھیج دوں۔ آپ نے امیر کی ایسی اچھی تربیت کی ہے آپ تو غریب کی دُنیا بھی بدل دیں گے۔

            بلوچستان کے رشتے کے حوالے سے آپ کی تشویش دیکھ کر آپ پر بڑا پیار آیا لیکن میں نے سوچا ہے بلوچستان کے لیے کوئی گھر داماد ہی ڈھونڈوں، وہ میرا دوست چین ہے نا اُس نے ایک دو اچھے رشتے بتائے ہیں کہہ رہا تھا جہیز بھی نہیں دینا پڑے گا اور لوگ بھی عزت کرنے والے ہیں (میں تو خیر جہیز کی وجہ سے رشتہ پر غور کر رہا ہوں عزت کی وجہ سے نہیں) تو اب آپ فکر مند نہ ہوں آپ نے اور بھارت نے پہلے بنگلہ دیش کا بھی رشتہ کرایا تھا تب سے میں نے توبہ کر لی ہے اس بار چین کا مشورہ ہی ٹھیک ہے۔

            آپ کا اپنا گھر ہے یہ کوئی کہنے کی بات تھوڑی ہے آپ جب چاہیں آئیں رہیں آپ کو اُس سے زیادہ پیار اور عزت دیں گے جتنی افغانستان دیتا ہے۔

            خط کے ساتھ سامان کی ایک اور لسٹ بھیج رہا ہوں یقین ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی شفقت فرمائیں گے۔

            آپ کی درازی عمر کے لیے دُعا گو۔

                                                                                                                        آپ کا چھوٹا بھائی

                                                                                                                        پاکستان

نوٹ:      (آپ کی فرمائش پر سوتیلا کا لفظ نکال دیا ہے میں نے)