لو لیٹرز

میرے پیارے چھوٹے بھائی پاکستان

            خیریت موجود خیریت مطلوب۔

            تمہارا خط ملا ہمیشہ کی طرح پڑھ کر افسوس ہوا۔ پہلی بات تو یہ کہ ہمیشہ ہاتھ دھو کر خط لکھا کرو اس بار بھی جگہ جگہ چکنائی کے نشان تھے کاغذ پر لگتا ہے تم نے لوڈ شیڈنگ کے دوران خط لکھا ہے یا پھر کھانا کھا کر ہاتھ دھوئے بغیر خط لکھا ہے۔ تمہیں کتنی بار منع کیا ہے میں نے ہر بار تمہارا خط پڑھتے ہوئے مجھے دستانے پہننے پڑتے ہیں۔ اس بار تمباکو کی بو بھی آ رہی تھی میں دو منٹ دیر سے پہنچتا تو ٹومی تمہارے خط کا حشر کر دیتا۔ لگتا ہے تم نے پھر حقہ شروع کر دیا ہے اُسی سے منہ نکالا میں نے تمہارا خط تمہیں پتہ ہے کہ تمباکو کی بو کو میلوں دور سے سونگھ لیتا ہے اور تمہارے خط کے لفافے کو تو وہ گندی لکھائی اور داغ دھبوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی پہچان لیتا ہے۔ اُوپر سے تم اب بھی ٹکٹوں کو تھوک لگا کر لفافے پر چپکاتے ہو ٹومی سب سے پہلے ؟؟؟؟؟

پڑھ کر ہوا۔ یہ کیسی غیروں جیسی بات کی ہے تم نے کہ میں تمہیں پیسے نہ بھیجوں میں اگر تمہارا خیال نہیں رکھوں گا تو اور کون رکھے گا غصے میں اگر کبھی میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں پیسے بند کر دوں گا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس بات کو دل پر ہی لے لیا کرو۔ میں تمہارا بڑا بھائی ہوں بڑا بھائی باپ کی جگہ ہوتا ہے میں اگر کبھی ناراض ہو جایا کروں تو تم بس مجھ سے معافی مانگ کر منا لیا کرو جیسے تم شروع سے مناتے آ رہے ہو۔ یہ سعادت مندی کی علامت ہوتی ہے اور سعادت مند ہی بانصیب ہوتا ہے ورنہ ہمارے چچا کے بیٹے عراق کا حال دیکھ لو تم۔

            جہاں تک امیر کے لاڈلا ہونے کی بات ہے تو اس میں میرا نہیں تمہارا قصور ہے میں نے تو غریب سے بھی بہت پیار کیا لیکن وہ بنیادی طور پر ہی احسان فراموش ہے کھا بھی لیتا ہے اور بکواس بھی کرتا رہتا ہے۔ امیر اس لحاظ سے مجھے پسند ہے کہ وہ کم از کم تمیز سے تو رہتا ہے میں اسی لیے امیر کو زیادہ اپنے پاس بلاتا رہتا ہوں۔ میرے پاس آ کر رہنے کی وجہ سے بھی امیر کے رکھ رکھائو اور اُٹھتے بیٹھنے میں بہت فرق آیا ہے۔ ٹومی اُس پر بھی بھونکتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ امیر اپنے آپ کو ایک دن اتنا اچھا کر لے گا کہ وہ خود تو میرے گھر میں ٹومی کی طرح بھونک لے لیکن ٹومی اُس پر نہیں بھونکے گا۔

            جہاں تک غریب کی بات ہے تمہیں اس کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے یہ شریفانہ طور طریقے نہیں ہیں اُس کے۔ اپنے بڑے بھائی سے حسد اور جھگڑا اور بدتمیزی۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ٹانگیں توڑ دیتا اُس کی، تم نے دیکھا یہی ہے میں نے اپنے بیٹے اسرائیل کی کیسی عمدہ تربیت کی ہے کہ ساری دنیا مثالیں دیتی ہے اُس کی، کیونکہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کھلائو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے۔ اس لیے تمہیں میرا مشورہ ہے کہ غریب کو کام دھندے پر لگائو اور بدتمیزی کرے اس بار تو مجھے بلا لو۔ کچھ سال میں میں اس طرح سیدھا کروں گا اُسے کہ تمہیں بھی رشک آنے لگے گا اُس پر۔

            تمہارا شکوہ جائز ہے کہ ایبٹ آباد آیا اور تمہیں بتایا بھی نہیں، پر کوئی بات نہیں اپنے گھر والی بات ہے اس بار نہیں تو اگلی بار سہی۔ یہ کوئی پہلا اور آخری چکر تھوڑی تھا مجھے پتہ ہے تم کنگلے ہو پر دل بہت بڑا ہے تمہارا۔ ریمنڈ بھی جب تمہارے پاس رہ کر واپس آیا تو بڑی تعریف کر رہا تھا تمہاری، کہہ رہا تھا ابا! اتنی عزت تو آپ نے نہیں کی جتنی چچا پاکستان اور اُس کے بڑے بیٹے امیر نے کی ہے۔

            اور سنائو بیٹی بلوچستان کا کہیں رشتہ طے کیا؟ تم کہو تو میں کہیں بات چلائوں۔ ویسے تو میں نے پہلے ہی دو چار لوگوں سے کہہ رکھا ہے جتنی جلدی بیٹیاں اپنے گھر کی ہو جائیں اُتنا ہی اچھا ہے اور بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دھن ہیں۔ بھارت اور افغانستان نے دو چار بڑے اچھے رشتے بتائے ہیں بلوچستان کے لیے اور میرا خیال ہے بلوچستان کی اپنی مرضی بھی ہے وہاں۔ تو تم اب ایک آدھ سال میں اس فرض کی ادائیگی کا بھی سوچو اور روپے پیسے کی فکر مت کرنا۔ خوب دھوم دھام سے رُخصت کریں گے بلوچستان بیٹی کو۔

            خط کے ساتھ کچھ سامان بھیج رہا ہوں امیر کے لیے، اُس نے فرمائش کی تھی پیار اور دُعا بھی دینا اُسے اور غریب کو خط پڑھا دینا میری املا اور جوڑ توڑ کمزور ہیں اس کے کچھ وقت لگے گا اُس کو خط پڑھنے میں، لیکن سمجھ آ جائے گی اُسے۔

            اور یہ بار بار اپنے آپ کو سوتیلا بھائی نہ کہا کرو، بس ”چھوٹا بھائی” کافی ہے۔

                                                                                                                        خیر اندیش اور درویش

                                                                                                                        تمہارا اکلوتا بڑا بھائی

                                                                                                                        امریکہ